ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 54 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 54

ب المسيح 54 حضرت اقدس کا ادب تین زبانوں میں اور اساتذہ ادب سے تقابل قبل میں بہت مرتبہ کہا گیا ہے کہ حضرت اقدس کا ادب حکم خداوندی کی بجا آوری میں ابلاغ رسالت کی غرض سے صادر ہوا ہے۔دراصل ابلاغ رسالت ہی وہ منبع ہے جس کے دہن سے اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات اور اپنی اطاعت اور محبت کی تعلیم و تربیت جاری فرماتا ہے۔قرآن میں مرسلین کو یہ حکم بار بار ہوا ہے کہ : بَلغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (المائدة: 68) ترجمہ: جو تجھ پر نازل ہوا ہے اس کا ابلاغ کر اور مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلغ (المائدة: 100) ترجمہ:۔رسول پر صرف پیغام پہنچانا ہی فرض ہے یہ ابلاغ ان کے ذاتی منصب کا نہیں ہوتا۔بلکہ پیغام کی ترسیل کو بہترین انداز میں پیش کرنے کا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرسلین کے بارے میں فرمان قرآن ہے۔مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: 4۔5) یعنی انبیاء کا نطق و کلام ان کی ذاتی تمناؤں کے اظہار میں نہیں ہوتا بلکہ وحی الہی کے تحت اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اور اس کی نگرانی میں جاری ہوتا ہے اس مضمون کو حضرت اقدس نے کس قدر خوبی سے بیان فرمایا ہوا ہے۔ما مورم و مرا چه در ین کار اختیار رو این سخن بگو بخداوند آمرم ! میں تو مامور ہوں مجھے اس کام میں کیا اختیار ہے جا! یہ بات میرے بھیجنے والے خدا سے پوچھ حکم است ز آسماں بز میں میرسانمش گر بشنوم نگوئیمش آن را کجا برم آسماں کا حکم میں زمین تک پہنچاتا ہوں۔اگر میں اُسے سنوں اور لوگوں کو نہ سناؤں تو اُسے کہاں لے جاؤں من خود نگویم اینکه بلوح خدا ہمیں است گر طاقت ست محوگن آن نقش داورم میں خود یہ بات نہیں کہتا بلکہ لوح محفوظ میں ہی ایسا لکھا ہے اگر تجھ میں طاقت ہے تو خدا کے لکھے ہوئے کو مٹا دے۔آپ مشاہدہ کر لیں کہ مرسلین باری تعالیٰ کا منصب ادبی کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ان کی نگارشات لوح محفوظ کے مندرجات ہوتے ہیں۔