ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 42
المسيح 42 الہام حضرت اقدس در کلام تو چیز لیست که شعراء را در آن دخله نیست تیرے کلام میں ایک ایسی چیز ( خوبی ) ہے جو شاعروں کو نصیب نہیں ہوئی ) لفظ ” کلام کو کسی شاعر کی ایک آدھ غزل یا نظم کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اس لفظ کو اسی موقع پر اختیار کیا جاتا ہے جبکہ کسی شاعر کے تمام مجموعۂ کلام اور افاضات شعری کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور اس میں کسی ایک زبان کی قید بھی نہیں ہوتی۔اس لیے خاکسار کی دانست میں چیز“ کہہ کر اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے جو آپ کے تمام کلام کی روح رواں ہے اور جس نے آپ کے کلام کا احاطہ کر رکھا ہے یعنی محبوب حقیقی کی محبت میں تسلیم ورضا اور ابلاغ رسالت باری تعالیٰ کرنا۔محاسن کلام کی مکمل پاسداری کے ساتھ آپ کے کلام کی یہ خصوصیت دنیائے ادب میں ایک منفرد اور ممتاز خوبی ہے۔مغربی ادیبوں کو تو یہ سعادت نصیب ہی نہیں ہوئی۔مگر مشرقی اور اسلامی ادیبوں میں بھی کوئی شاعر ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی ادبی اور شعری تخلیقات کا محور کاملۂ محبت الہی کے مضامین کو بنایا ہو۔حمد و ثناء باری تعالیٰ اور نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ایسے موضوعات ہیں جو مشرقی ادب میں مقبول عام ہیں۔مناجات کا موضوع بھی ایک حد تک مقبول ہے اور جستہ جستہ اشعار محبت الہی اور وصال باری تعالیٰ کی تمنا میں مل جائیں گے۔خواہ وہ مجاز اور استعارہ کی راہ سے ثابت ہوتے ہوں۔ابلاغ رسالت کا موضوع تو ان کے بس کی بات نہیں تھی۔کیونکہ یہ کام تو ایک مرسل باری تعالی ہی کو کرنا ہوتا ہے مگر اگر کسی قدر محبت الہی کے بیان کا سرمایۂ ادب دستیاب ہے تو وہ فارسی زبان میں ہے۔دراصل فارسی زبان کے ادیبوں نے ہی یہ کوشش کی ہے کہ وہ زمینی قید و بند سے آزاد ہو کر فنا پذیر اقدار حسن و جمال اور عشق و محبت سے بلند ترحسنِ ازل اور محبوب لم یزل کی طرف پرواز کرے مگر فارسی ادب میں کوئی ایسا شاعر نہیں ملے گا جو کامل طور پر حریم قدس کا باسی ہو اور اسی بارگاہ سے اس کو قابلیت اور استعداد عطا ہوئی ہو اور وہ اُسی نور کا پر تو ہو جائے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا انی فی اللہ اور عاشق رسول اسلامی ادب کے آسمان پر کبھی طلوع ہی نہیں ہوا تھا۔کسی محبوب حقیقی اور محبوب خدا کا ایسا وصال نصیب نہیں ہوا تھا کہ اس کی انتہاء میں یہ کیفیت ہو کہ محبوب اور محبت اور عاشق اور معشوق میں امتیاز مشکل ہو جائے اور یہ صورت ہو جائے۔