ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 41 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 41

41 ادب المسيح حضرت اقدس کے موضوعات شعر اس سے قبل میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت اقدس کے محرکات تخلیق ادب اور آپ کی ادبی ترجیحات کی ممتاز نوعیت کی بنا پر آپ کا ادب ایک منفرد اور جدا گانہ مکتب ادب ہے۔اس امر کے شواہد پیش کرنے کے بعد ہم اس مقام تک پہنچے ہیں کہ آپ کے اختیار فرمودہ موضوعات ادب کو بیان کریں۔دراصل یہ ترتیب تو ادبی دستور اور روایت کے تحت اختیار کی گئی ہے وگر نہ حقیقت تو یہی ہے کہ ادیب کے تخلیقی محرکات کا علم در اصل اس کے ادب پاروں سے ہی ہوتا ہے۔یعنی یہ علم اور شعور کہ اس کے ذہنی رجحانات کیا ہیں۔اور اس کو کن واردات قلبی نے ایک خیال اور جذبے کو الفاظ کا قالب دینے پر مجبور کیا ہے۔دوسرے الفاظ میں ادیب کے موضوعات شعر ہی اس کے قلب و نظر کا راز فاش کر رہے ہوتے ہیں۔یہی حقیقت جس کو بیان کرنا مجھے مشکل معلوم ہورہا ہے غالب نے کس قدر سادہ اور سہل انداز میں بیان کر دی ہے۔کھلتا کسی پر کیوں میرے دل کا معاملہ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے اگر اس شعر کے وزن سے صرف نظر ہو سکے تو انتخاب کی جگہ موضوعات کا لفظ رکھ دیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادیب کے محرکات ادب اور ترجیحات قلبی کا علم ان موضوعات سے ہوتا ہے جن کو وہ اختیار کرتا ہے۔ایک اعتبار سے انتخاب بھی ایک نوعیت کی تخلیق ہی ہوتی ہے کیونکہ دونوں عمل اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔اتنا کچھ کہنے کے باوجود ہماری ترتیب میں زیادہ رد و بدل کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ہم نے حضرت اقدس کے محرکات ادب کے بیان میں آپ کے کلام کا وہ موضوع قدم قدم پر پیش کر دیا ہے جو آپ کے شعری موضوعات کی جان اور روح رواں ہے اور ایک ایسا نقطہ مرکزی اور محور ہے جس کے گرد آپ حضرت کے تمام شعری موضوعات طواف کرتے ہیں۔(۱) یعنی واحد وحید خدا کی محبت کا قیام اور ابلاغ رسالت۔(۲) آپ کے کلام کی یہ نوعیت کہ وہ خالصہ اور کلیۂ محبت الہی اور اس کے حصول کے آداب کے اظہار میں بیان ہوا ہے اور محبوب حقیقی کی طرف سے تنزیل کے طور پر ایک پیغام خداوندی ہے۔دنیائے ادب میں ایک ایسی منفردشان اور خوبی ہے کہ شاید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں آپ کے کلام کی ایسی تعریف و مدحت بیان کی ہے۔