ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 43 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 43

43 ادب المسيح من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری ترجمہ:۔میں تو ہو گیا ہوں اور تو میں ہو گیا ہے میں جسم ہو گیا ہوں تو جان ہو گیا ہے ( یہ اس لیے ہوا ہے ) تاکہ کوئی (بعد میں ) یہ نہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔دراصل تمام مرسلین باری تعالیٰ کا یہی مرکزی موضوع ہوتا ہے اور اسی محور کے گردان کا کلام طواف کرتا ہے۔یہی وہ بنیادی فرق ہے جو انبیاء اور مرسلین کے کلام اور دیگر شعراء کے کلام میں ظاہر ہوتا ہے اور یہی وہ چیز۔جوالہام حضرت اقدس میں بیان ہوئی ہے۔دوبارہ سن لیں۔در کلام تو چیزیست که شعراء را در آن دخله نیست ترجمہ:۔تیرے کلام میں ایک ایسی چیز ہے جو دیگر شاعروں کو عطا نہیں ہوئی یہ جو کہا گیا کہ محبت الہی اور احکام الہی کی ترسیل کے مضامین کو مستقلا اختیار کرنے میں حضرت اقدس کی ایک منفرد اور ممتاز ہستی ہے اس سے صرف یہ مراد ہے کہ دنیوی شعراء کے مقابل پر ایسا ہے۔وگر نہ حق تو یہ ہے کہ اس منفرد نوعیت کا کلام تو تمام انبیاء اور مرسلین کا مجموعی ورثہ ہے اور ایسا وراثتی انعام ہے جو حضرت آدم سے لے کر آدم ثانی یعنی حضرت اقدس تک درجہ بدرجہ منتقل ہوتا رہا ہے۔حضرت ایوب کی گریہ وزاری اور حضرت داؤڑ کے مزامیر اور حضرت سلیمان کی امثال اور غزل الغزلات اور اُس سے بڑھ کر ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم۔یہ سب ادبی شاہکار ہیں۔اپنی ہیئت میں آج کے شعری اسلوب سے قریب تر بلکہ شعر ہی ہیں۔شعر کی تعریف میں مخصوص اوزان اور بحور کی قید اور ارکان افاعیل کی ایجاد بعد کی ہے۔اساتذہ شعر وادب نے بھی اس شرط کو ہر مقام پر قابل اعتماد نہیں سمجھا۔قرآن کریم تو اس شرط کو یکسر قبول نہیں کرتا۔قرآن کا ایک اپنا زیر و بم اور آہنگ ہے جو بہت دل پذیر ہے۔قرآن کریم جہاں پر عقلی استدلال اور علمی تعلیم و تدریس بیان فرماتا ہے وہاں نثر کا انداز ہے اور یہی نثر کا منصب ہے۔اور جس مقام پر باری تعالیٰ اپنی ذات وصفات کی عظمت و جلال اور اپنا حسن و جمال بیان فرماتا ہے۔وہاں پر اس کا طرز بیان شعری اسلوب پر ہے کیونکہ قلب و روح کی تسخیر اور عشق کے جذبے اسی سے زندہ ہوتے ہیں یہی وہ اسلوب ادر ہے جس وجہ سے وہ بے مثل ہونے کا مدعی ہے۔