ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 254
المسيح 254 اور تجھ کو ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام عالم پر نظر رحمت کریں اور نجات کا راستہ اُن پر کھول دیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لئے تجھے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جاوے پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خدا ہے ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں اور آپ کی ہمدردی تمام دنیا سے ہے نہ کسی خاص قوم سے۔مزید فرماتے ہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) تمام دنیا پر رحم کر کے ہم نے تجھے بھیجا ہے اور عالمین میں کافر اور بے ایمان اور فاسق اور فاجر بھی داخل ہیں اور اُن کے لئے رحم کا دروازہ اس طرح پر کھولا کہ قرآن شریف کی ہدایتوں پر چل کر نجات پاسکتے ہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور رحمتہ للعالمین ہونے کی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلق عظیم عطا کیا۔جیسے فرماتا ہے۔إنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم :5) حضرت اقدس اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔تو اے نبی ! ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متم و مکمل ہے کہ اُس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اُس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔اور مزید تفصیل سے فرماتے ہیں : (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) خدا تعالیٰ نے بیشمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دئے سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بارگاہ تیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر