ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 253 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 253

253 ادب المسيح کامل ہونے کے اعتبار سے آپ کے خصائلِ مبارکہ اور اخلاق حسنہ کو قرآن کریم کے فرمان کے تحت پیش کرتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبة: 128) حضرت اقدس مسیح موعود اس فرمانِ قرآن کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔جذب اور عقد ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لیے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنتُم یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا وہ اس پر سخت گراں ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) فَأَشَارَ اللَّهِ فِي قَولِهِ عَزِيزٌ وَّ فِي قَولِهِ حَرِيصٌ إِلَى أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَظْهَرُ صِفَتِهِ الرَّحْمنِ بِفَضْلِهِ الْعَظِيمِ لِأَنَّهُ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِيْنَ كُلِهِمْ وَ لِنَوْعِ الْإِنسَانِ وَ الْحَيَوَانِ وَاَهْلِ الْكُفْرِ وَالْإِيْمَانِ۔ثُمَّ قَالَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ فَجَعَلَهُ رَحْمَانًا وَّ رَحِيمًا۔ترجمہ از مرتب: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عزیز اور حریص کے الفاظ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے فضل عظیم سے اس کی صفت رحمن کے مظہر ہیں کیونکہ آپ کا وجود مبارک سب جہانوں کے لیے رحمت ہے۔بنی نوع انسان حیوانات۔کافروں۔مومنوں سبھی کے لیے۔پھر فرمایا بالمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِیم اور اس میں آپ کو رحمان اور رحیم کے نام دیئے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور اس مضمون کے تسلسل میں باری تعالٰی کا یہ فرمان بھی تو ہے فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : 108)