ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 255 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 255

255 ادب المسيح کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے اُن کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بسترا اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نانِ جو یا فاقہ اختیار کیا۔دُنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دُنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔اور اُس دن سے جو ظہور فر مایا تا اُس دن تک جو اپنے رفیق اعلی سے جاملے بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلے پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا خالصا خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔غرض جود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردمی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دُنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) یہ ہمارے آقا اور سیدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (فدا امی وابی ) کی روحانی اور فطرتی مناصب علوی تھے جن کی بنا پر باری تعالیٰ نے صرف یہ حکم ہی نہیں صادر فرمایا کہ آپ حضرت کے نمونے کو اختیار کرو بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ اس رسول پر صلوات و درود بھیجتے ہیں اس لیئے ہر مومن پر لازم ہے کہ آپ حضرت پر درود و سلام بھیجے۔باری تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ وَمَلَيْكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) خدا اور اس کے سارے فرشتے اُس نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایماندار و تم بھی اُس پر درود بھیجو اور نہایت اخلاص اور محبت سے سلام کرو۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس فرمانِ خداوندی کی تفسیر میں حضرت اقدس فرماتے ہیں: دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا جس کا نام ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم۔إن اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ان قوموں کے بزرگوں کا ذکر تو جانے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بیان نہیں کیا