ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 238
ب المسيح 238 وسرے مقام پر بھی ثنا کو مشاہدہ کریں۔يَا مَنْ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالأَلَاءِ نُثْنِي عَلَيْكَ وَ لَيْسَ حَوُلُ ثَنَاءِ اے وہ ذات جس نے اپنی نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں لیکن تعریف کی طاقت نہیں پاتے۔انظر الى برحمة و عطوفة یا ملجئى يا كاشف الغمّاء مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر، اے میری پناہ! اے حزن و کرب کو دور فرمانے والے! انت الملاذ و انت کهف نفوسنا في هذه الدنيا و بعد فناء تو ہی جائے پناہ ہے اور تو ہی ہماری جانوں کی پناہ گاہ ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی۔انا رئینا في الظلام مصيبة فارحم و انزلنا بدار ضياء ہم نے تاریکی کے زمانہ میں مصیبت دیکھی ہے۔تو رحم فرما اور ہمیں نور کے گھر میں اتار دے۔تعفو عن الذنب العظيم بتوبة تنجی رقاب الناس من اعباء تو تو بہ سے بڑے گناہوں کو (بھی) معاف فرما دیتا ہے تو (ہی) لوگوں کی گردنوں کو بھاری بوجھوں سے نجات دیتا ہے۔انت المراد و انت مطلب مهجتی و علیک کل توکلی و رجائی تو ہی مراد ہے اور تو ہی مری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور امید ہے۔أعطيتني كأس المحبة ريقها فشربت رَوْحَاءً عَلَى رَوْحَاءِ تو نے مجھے محبت کی بہترین ئے کا ساغر عطا کیا ہے تو میں نے جام پر جام پیا۔إنِّي أموت ولا يموت محبّتى یدری بذکرک فی التراب نِدَائِی میں تو مر جاؤں گا لیکن میری محبت نہیں مرے گی۔( قبر کی ) مٹی میں بھی تیرے ذکر کے ساتھ ہی میری آواز جانی جائے گی۔مطلع میں اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں عرض کرتے ہیں کہ حمد وثنا کا کوئی حق ادا نہیں کرسکتا اور پھر مناجات اور دعا ہے اور آخر پر بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔یہ شعر کس قد رعشق اور محبت سے لبریز ہے۔انی اموت ولا يموت محبتى یدری بذکرک فی التراب نِدَائِي میں تو مر جاؤں گا لیکن میری محبت نہیں مرے گی۔( قبر کی مٹی میں بھی تیرے ذکر کے ساتھ ہی میری آواز جانی جائے گی۔