ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 237
237 ادب المسيح بذکرک یجرى كل قلب قد اعتقى بحبک یحیی کل میت ممزق تیرے ذکر کیساتھ ہر ایک دل ٹھہرایا ہوا جاری ہو جاتا ہے اور تیری محبت کے ساتھ ہر ایک مردہ زندہ ہو جاتا ہے و باسمک یيحفظ كل نفس من الردا و فضلك يُنجى كل من كان يزبق اور تیرے نام کے ساتھ ہر ایک شخص ہلاکت سے بچتا ہے اور تیر افضل ہر ایک قیدی کو رہائی بخشتا ہے وما الخير الا فیک یا خالق الوری وما الكهف الا انت يا متكأ التقى اور تمام نیکی تیری طرف سے ہے۔اے جہان آفرین! اور تو ہی پر ہیز گاروں کی پناہ ہے و تعنوا لک الافلاک خوفا و هيبة و تجرى دموع الراسيات و تثبق اور تیرے آگے خوفزدہ ہو کر آسمان جھکے ہوئے ہیں اور پہاڑوں کے آنسو جاری اور رواں ہیں وليس لقلبی یا حفیظی و ملجأی سواک مريح عند وقت التازق اور میرے دل کے لئے۔اے میرے نگہبان اور پناہ! کوئی دوسرا آرام پہنچانے والا نہیں جب تنگی وارد ہو يميل الورى عند الكروب الى الورى و انت لنـا كهف كبيت مسردق دکھ کے وقت خلقت خلقت کی طرف توجہ کرتی ہے اور تو ہمارے لئے ایسی پناہ ہے جیسے نہایت مضبوط گھر حمد وثنا کے یہ عربی اشعار اپنے حسن و خوبی اور اسلوب شعر عربی میں ایک شاہکار کلام ہے۔اور ادب عربی میں اس عظمت وشان کی ثنا کہیں دستیاب نہیں ہوگی۔اس میں وہ تمام عناصر تنا جو اس موضوع کی جان ہوتے ہیں بدرجہ اتم موجود ہی نہیں بلکہ تاباں اور رخشاں ہیں۔باری تعالیٰ کی عظمت و شان کا بیان بہت ہی پُر شوکت اور سراسر محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ابتدا کے تین اشعار میں تو ایسا جوش ہے جیسے بہت بلندی سے محبت الہی کا دریا رواں دواں ہو اور اُس کو دنیا کی کوئی دیوار روک نہ سکے شاید اسی جوش محبت کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے: و تعنوا لک الافلاک خوفا و هيبة و تجری دموع الراسيات و تثبق اور تیرے آگے خوفزدہ ہو کر آسمان جھکے ہوئے ہیں اور پہاڑوں کے آنسو جاری اور رواں ہیں۔اور آخر پر بہت ہی خوبصورت۔بہت عاجزی کے انداز میں عرض کرتے ہیں کہ آپ کا سہارا اور پناہ تو صرف باری تعالیٰ ہے۔فرماتے ہیں: يميل الورى عند الكروب الى الورى وانت لنا كهف كبيت مسردق دکھ کے وقت خلقت خلقت کی طرف توجہ کرتی ہے اور تو ہمارے لئے ایسی پناہ ہے جیسے نہایت مضبوط گھر