ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 204 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 204

ب المسيح 204 کر لینا ممکن نہیں۔اسی عرفانِ ذات باری تعالیٰ کے اظہار میں فرمایا: لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ۔أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (مسلم كتاب الصلوة باب ما يقول في الركوع والسجود) اس فرمان کے اتباع میں اور رہنمائی میں ہم پر لازم ہے کہ ہم ثناء باری تعالیٰ کے مضمون کو فرمودات قرآن اور ارشا د رسول اکرم ( اور ان دونوں ماخذوں کی جو تعبیر و تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے) کے دائرے میں محمد و درکھیں۔در اصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نے جس ثناء کی طرف اشارہ کیا ہے وہ قرآن کریم میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے محامد ہیں۔چنانچہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات میں بے انتہا اختصار سے پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی حمد و ثناء کس طور سے کی ہے اول مقام پر حضرت اسم اللہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اللہ جو خدائے تعالیٰ کا ایک ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کا ملہ کا مجمع ہے۔کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں۔اور تفصیلاً فرماتے ہیں: ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔الحمد لله - تمام محامد اس ذات معبود برحق مجمع جمیع صفات کا ملہ کوثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اُس ذات کامل کا نام ہے جو معبودِ برحق مجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لیے اُس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کا ملہ پر مشتمل ہے پس خلاصہ مطلب الحمد للہ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں اور اُس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ! ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)