ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 205
205 ادب المسيح اس فرمان کی روشنی میں اللہ باری تعالیٰ کا اسم ذات ہے اور قرآن میں جو دیگر صفات خداوندی بیان ہوئی ہیں وہ اسم اللہ ہی کی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں اسم اللہ جو کہ اس کا اسم ذات اور اسم اعظم ہے دو ہزار سے زائد مرتبہ بیان ہوا ہے اور اگر ہم اسم ذات کے صفاتی اسماء باری تعالیٰ کا شمار کرنے لگیں تو وہ شمار میں اس قدر ہیں کہ یہ کہنا درست ہو گا کہ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کے اسماء علوی پر ہی مشتمل ہے۔سورۃ الفاتحہ کی اس آیت کو یہ فخر بھی ہے کہ اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مرتبہ مکمل الفاظ میں ارشاد کیا ہے۔جیسے فرمایا فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : 46) وَاخِرُ دَعُونَهُمْ آنِ الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (يونس: 11) فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الذِيْنَ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (المومن : 66) وَسَلَّمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الصافات : 182-183) بہت مختصر بات یہ ہوئی کہ قرآن کریم میں ثناء باری تعالیٰ اسم ذات اور اسماء صفات کے معانی اور عرفان پر مشتمل ہے ان مناقب باری تعالیٰ کا حقیقی اور جامع بیان تو سورۃ الفاتحہ میں ہوا ہے جس میں اسم ذات کے ساتھ اللہ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں جن کو حضرت اقدس نے ام الصفات قرار دیا ہے اور فرمایا کہ دیگر تمام صفات ان چار صفات کے ذیل میں آتی ہیں۔فرماتے ہیں: سورۃ فاتحہ میں اُس خدا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جو قرآن شریف منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے چنانچہ اس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو امہات الصفات کہلاتی ہیں جیسے سورۃ فاتحہ ام الکتاب ہے ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی ام الصفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں۔رب العالمین الرحمان الرحیم ملک یوم الدین ان صفات اربعہ پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آ جاتا ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زمر آیت) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور حضرت مسیح موعود کی قرآنی تفسیر و تعبیر کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بیان سے بھرا ہوا ہے بلکہ در حقیقت قرآن کا یہی موضوع ہے جو مختلف انداز میں بیان ہوا ہے کبھی اپنی صفات کی عظمت و شان کو ظاہر کر کے اور کبھی اپنی ذات کی عبادت کی تلقین فرما کر۔جیسا کہ سورہ ہود میں فرمایا: