ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 203
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا 203 بڑھ کر مقا' ادب المسيح میرا بستاں کلام احمد ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ و اس سے بہتر غلام احمد ہے مشاہدہ کریں کہ جام احمد میں کیا ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی کبریائی کا آب زمزم ہی تو ہے۔یہی وہ ثمر ہے جو آپ نے اپنے آقا کے باغ سے نوش فرمایا اور اس کی برکت سے الہی عظمت وشان اور مدح و ثناء کو حضرت عیسی سے چھین کر باری تعالیٰ کے قدموں میں ڈال دیا۔اس طور سے آپ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے بن گئے حمد و ثناء کے عنوان میں حضرت اقدس کے الفاظ میں اس موضوع کی ” تعریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے نائب اور وارث کا حمد باری تعالیٰ کی نسبت سے منصب بیان کرنے کے بعد ہم رسول اکرم کے فرمان لا أحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ۔أَنْتَ كَمَا اَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ کی طرف لوٹتے ہیں۔اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام عظمتوں اور صفات حسنہ کا احاطہ نہیں کر سکتا مگر جیسا کہ حضرت اقدس نے بیان فرمایا ہے کہ انسانوں میں جس کو سب سے اعلیٰ ثناء باری تعالیٰ کرنے کا افتخار ملا ہے وہ ہمارے مولی و آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ آقاءِ نامدار صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے اس منصب علوی کے بیان میں فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَ حُسُنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحُهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِى۔(بخارى كتاب التفسير سورة بنی اسرائیل باب قوله ذرية من حملنا مع نوح) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنے محامد اور ثناء کے معارف اس طور پر کھولے ہیں کہ مجھ سے قبل کسی اور شخص پر اس طرح نہیں کھولے گئے۔باری تعالیٰ کی حمد کی نسبت آپ کا مقام سب سے اعلیٰ ہے مگر اس فرمان کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی بے حد وانتہاء عظمتوں کا عرفان رکھتے تھے اور خوب سمجھتے تھے کہ کسی انسان سے ان عظمتوں کا احاطہ