ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 174 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 174

ب المسيح 174 اگر لیہ کو خوابیدہ جذبات اور نا کام تمناؤں کی تمثیل سمجھا جائے۔تو ایسے ہوا کہ بہار کی آمد نے ایسے لالہ زار پیدا کئے کہ جذبات اور تمناؤں کی چنگاریاں بھڑک اُٹھیں اور اس حالت میں یہ عالم ہوا کہ پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہو نگے اور جب خزاں آئی تو بہار کی یاد میں کہا: ہم وحشیوں نے صحن گلستاں سے اے خزاں تنکے بھی چن لیے کہ شریک بہار تھے حضرت اقدس علیہ السلام نے بہار کی علامت کو تمام ادبی اقدار کی نہایت حسین پاسداری کرتے ہوئے اختیار فرمایا ہے۔آپ نے اس لفظ کو وحی الہی کے مطابق حقیقی معنوں میں بھی استعمال کیا ہے۔زلزلے کی پیشگوئی میں فرماتے ہیں ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار کب یہ ہو گا ؟ یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایامِ بہار ” پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی“ یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لواے ہوشیار ( تذکره صفحه 455-456 مطبوعہ 2004ء) بہار کے لغوی معنوں میں ایک اور الہام حضرت اقدس کا ہے پھر بہار آئی تو آئے خلیج کے آنے کے دن“ تذکرہ صفحہ 525 مطبوعہ 2004ء) آپ حضرت نے بہار کے معانی تو موسم بہار کے مطابق کئے ہیں۔البتہ طلبہ ( جس کے لغوی معانی آسمانی برف اور ژالوں یعنی اولوں کے ہیں) کے بہت سے علامتی معانی فرمائے ہیں یعنی آفات سماوی کا نازل ہونا۔یا اس کے برعکس اطمینان قلب ( ملح قلب ) حاصل ہو جانا مزید تحقیق کے لیے تذکرہ صفحہ 520 تا25 5 مطالعہ کرنا چاہئیے۔