ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 173
173 ادب المسيح ادبی علائم ورموز گذشتہ میں بیان ہوا تھا کہ حضرت اقدس کے اشعار میں جو الفاظ مجاز اور علامت کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ان کا ایک نہایت درجہ مختصر جائزہ پیش کرنا حضرت اقدس کی شعری اور ادبی عظمت کے اظہار کے لیے بہت موزوں ہوگا۔اس غرض کے لیے ہم نے شعری علامات اور رموز کے دو شعبے بنائے ہیں۔ایک روحانی مضامین کے اور دوسرے ادبی مضامین کے علائم۔روحانی مضامین کے اظہار میں ہم لفظ ” نور“ اور ”صدق“ کو بیان کر چکے ہیں۔ادبی مضامین کے اعتبار سے ہم نے دولفظ انتخاب کئے ہیں۔اول: بہار دوم : کربلا، گریبان اور جیب دوسر الفظ بظاہر ایک نہیں مگر ادبی دلالتوں کے اعتبار سے ایک مضمون ہی کے خدو خال رکھتا ہے۔بہار : حضرت اقدس کے اردو اور فارسی کلام میں بہار کا لفظ بہت مقامات میں استعمال ہوا ہے۔اور بہت سے مقامات میں لغوی معنوں سے متبائن اور متضاد معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور بہت خوبصورتی سے ہوا ہے لغوی اعتبار سے تو بہار کے معافی ماہ و سال کے ان ایام سے ہے جب کہ سرد ایام کے بعد نباتی حیات زندہ ہوتی ہے اور پودے پھولتے پھلتے ہیں۔موسم کی اس نوعیت کے اعتبار سے ادبی اقدار میں بہار زندگی کی اور خزاں افسردگی اور موت کی علامت ہے اس لیے شعری ادب میں یہ متحارب موسم با ہم مخالف جذبات اور خیالات کے اظہار کی علامتیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اردو اور خصوصا فارسی ادب میں باغ و بہار اور گل و بلبل ایسے علامتی اشارے ہیں جو جذبات عشق ومحبت کے زندہ ہونے اور نئی تمناؤں اور اُمیدوں کے نمودار ہونے کے اظہار کے لیے اختیار کئے جاتے ہیں۔اس لیے علامتی اعتبار سے مشرقی زبانوں میں گل محبوب ہے اور باغ اُس کا حسن و جمال ہے اور بلبل عاشق زار ہے۔اور ان سب کیفیات اور احساسات کے زندہ اور متحرک ہونے کا باعث موسم بہار ہے۔معلوم نہیں کس کا ہے مگر اس مضمون میں عظیم الشان شعر ہے۔روشن کئے چراغ لحد لالہ زار نے اس مرتبہ تو آگ لگادی بہار نے