ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 175 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 175

175 ادب المسيح ان الہامات باری تعالیٰ سے ایک علامتی معنی تو ضرور ثابت ہوئے ہیں کہ بہار کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کی صداقت کے نشان کے طور سے اختیار کیا ہے کیونکہ موسم بہار میں زمین اپنی روئیدگی اور انسان اپنی تازگی کیساتھ زندہ ہوتا ہے اُسی طور سے حضرت کی صداقت کے نشان ایک نئی زندگی اور شعور پیدا کریں گے اور ایک قہری تجلی ہوگی مگر ادبی علامت کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے نہایت درجہ حسن وخوبی کیساتھ اس علامت کا الہام کیا اور فرمایا رسید مژده که ایام نو بہار آمد تذکرہ صفحہ 437 مطبوعہ 2004ء) حضرت اقدس نے اسی وحی الہی کو بہت ہی خوبصورت ادبی حسن و جمال کے ساتھ پیش کیا ہے اور یہ وضاحت کی ہے کہ اس بہار سے دنیا وی عشق و محبت کی بہار مراد نہیں بلکہ محبوب حقیقی کی محبت کا زندہ ہونا مراد ہے رسید مژده که ایام نو بہار آمد زمانه را خبر از برگ و بار خود بکنم ترجمہ: مجھے خوشخبری ملی ہے کہ پھر موسم بہار آ گیا تا کہ میں زمانہ کو اپنے پھلوں اور پتوں کی خبر کر دوں تعلقات دلآرام خویش بنمایم ہمائے اورج سعادت شکار خود بکنم ترجمہ: اور اپنے محبوب کے تعلقات کا اظہار کروں اور ہمائے اوج سعادت کو اپنا شکار بناؤں یہاں پر ایام نو بہار سے مراد وصال باری تعالیٰ اور قرب محبوب حقیقی ہے اور اس موقع پر آپ کی تمنا ہے کہ آپ اپنے محبوب کی واردات محبت کو بیان کریں اور عاشقانِ الہی میں جو انتہائی مقام سعادت ہے اُس کو شکار کریں ( حاصل کریں)۔دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ”بہار کو کس خوبصورت علامت کے طور پر قبول فرماتا ہے اور پھر حضرت اقدس کو دیکھیں کہ کتنی خوبصورتی سے اللہ تعالیٰ کے محبوبانہ التفات کو محسوس کرتے ہوئے کس والہانہ انداز میں اس کی محبت کو بیان کرتے ہیں۔مشاہدہ کریں کہ آپ حضرت کی ”بہار کیا ہے۔وصال باری تعالیٰ کا حصول اور اس کے حاصل ہونے پر محبت الہی کا حیات بخش جوش اور پھر اس نعمت عظمی کو حاصل کرنے کی ترغیب۔فارسی ادب میں محبت الہی کے مضامین بہت ہیں مگر ” تعلقات دل آرام خویش کا ایسا والہانہ بیان کہیں