ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 122 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 122

المسيح 122 خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں کہ تیری محبت میری مشکلوں کا علاج ہے اور گو میں محبت میں گرفتار ہوں مگریچ یہ ہے اسی میں میری رہائی ہے اور یہی میری دلی تمنا ہے۔دوسرے شعر میں تو مکمل اتحاد لفظ و معانی ہے مگر جو سلاست اور حسنِ بیان حضرت کے شعر میں ہے اور جس طور سے مست اور ہشیار کا تقابل کیا ہے وہ دیدنی ہے۔حافظ عشق و محبت کے بیان کے مسلمہ طور پر مقبول شاعر ہیں شاید اسی مناسبت سے حضرت اقدس کا عشق الہی کا اسلوب حافظ کے طرز بیان پر ہے اور شاید اسی مناسبت کے تحت محبوب حقیقی نے حافظ کے شعر میں الہام کیا کہ جن لوگوں ( یعنی حضرت اقدس ) کے دل عشق الہی سے زندہ کئے جاتے ہیں ان کو زندگی دوام ملتی ہے اور زمانہ اُن کو معدوم نہیں کر سکتا۔حافظ کہتا ہے: ہرگز نمیرد آن که دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما ترجمہ: جن کا دل عشق کی وجہ سے زندہ کیا جاتا ہے وہ کبھی نہیں مرتے ہماری ہمیشگی دنیا کی تاریخ میں درج ہو چکی ہے۔دراصل یہ محبوب حقیقی کیطرف سے ایک محبت کا پیغام تھا کہ تم میرے محبان میں شامل ہو چکے ہو۔اس لئے جس طور سے میری ذات جاودانی ہے میرے عشاق بھی معدوم نہیں ہوا کرتے۔مگر قابل غور بات تو یہ ہے کہ اس محبت کے پیغام کو پہچانے کے لئے محبوب لم یزل نے حافظ کے شعر کا انتخاب کیا ہے اور آپ حضرت کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے۔کیا اس عمل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عشق و محبت کا سب سے بہتر اظہار حافظ ہی کر سکتا ہے اور یہ کہ اس شعر کے اصل مخاطب اور حقدار آپ حضرت اقدس ہی تھے۔شاید آپ حضرت نے انہیں مناسبتوں کی پاسداری میں اس شعر کو اپنے دوشعروں میں اس کے حقیقی معانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محفوظ کر لیا ہے۔فرماتے ہیں: آں ناں کہ گشت کو چہ جاناں مقام شاں ثبت است بر جریدہ عالم دوام شاں ترجمہ: وہ لوگ جن کا مسکن محبوب کا کوچہ ہو گیا ہے۔دنیا کے دفتر میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔