ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 121 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 121

جذبے کے اظہار میں مکمل اتحاد ہے۔121 ادب المسيح حافظ کے اسلوب بیان کے مطابق حضرت کے کلام میں بہت سے نمونے پیش نظر ہیں۔ان میں سے چند ایک پیش کرتا ہوں۔حافظ کی مشہور غزل جس کا مطلع یہ ہے۔بنال بلبل اگر با منت سرے یا ریست که ما دو عاشق زاریم و کار ما زار لیست ترجمہ: اے بلبل ! اگر تو مجھے دوست رکھتی ہے تو آہ و نالہ کر کیونکہ ہم دونوں عاشق زار ہیں اور ہمارا کام گریہ وزاری کرنا ہے۔حضرت فرماتے ہیں: محبت تو دوائے ہزار بیماری است بروئے تو کہ رہائی درمیں گرفتاری است ترجمہ: تیری محبت ہزار بیماریوں کی دوا ہے۔تیرے منہ کی قسم ہے کہ ایسی گرفتاری ہی میں اصل رہائی ہے۔حافظ کہتے ہیں: خیال زلف تو پختن نه کار خاما نیست که زیر سلسله رفتن کمال عیاریست ترجمہ: تیری زلف کا خیال پختہ کرنا خام کاروں کا کام نہیں اس لئے کہ زلف کی زنجیر میں آنا ہی اصل عیاری ہے۔حضرت فرماتے ہیں: پناہ روئے تو جستن نه طور مستان است که آمدن به پناهت کمال ہشیاری است ترجمہ: تیرے چہرے کی پناہ ڈھونڈھنا بے ہوش لوگوں کا کام نہیں کیونکہ تیری پناہ میں آجانا کمال ہشیاری کا کام ہے آپ دیکھ لیں حافظ بلبل کیسا تھ گریہ وزاری پر مجبور ہے مگر حضرت اقدس اس عشق و محبت کے مضمون کو کتنا