ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 120 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 120

المسيح 120 یہ ایک طور سے حافظ کے شعر کا جواب ہے کہ اگر عشق حقیقی ہو تو اس میں مصیبت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کا انعام واکرام ہوتا ہے۔حافظ کی اسی غزل کا ایک شعر تو لفظاً آپ نے اختیار فرمالیا۔گو موضوع کی تبدیلی کے ساتھ حافظ کہتا ہے۔شب تاریک و بیم موج و گر دا بے چنیں ہائل کجا دانند حال ما سبکساران ساحل با ترجمہ: تاریک رات ہے اور سیلاب کا خوف اور خوفناک بھنور۔ساحلوں پر بے فکری سے سیر کرنے والے ہمارا حال کیا سمجھ سکتے ہیں۔حضرت اقدس اس بے بسی کی کیفیت کو دین اسلام اور قوم کی غفلت کے غم میں بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: در میں ہنگام پر آتش بخواب خوش حساں خیسم زماں فریا د میدارد که بشتا بید نصرت را ترجمہ: اس آتشیں زمانے میں آرام کی نیند کیونکر سوسکتا ہوں جبکہ زمانہ فریاد کر رہا ہے کہ جلدی مدد کو پہنچو۔شب تاریک و بیم دزد و قوم ما چنیں غافل کجا زیں غم روم یا رب نما خود دست قدرت را ترجمہ: اندھیری رات ہے، چور کا خوف ہے اور قوم غافل ہے۔اس غم سے کہاں جاؤں؟ يا رب خود دست قدرت دکھا۔مشاہدہ کریں کہ موضوع کے اختلاف کے باوجود حضرت اور حافظ کا کس قدر اتحاد لفظی و معنوی ہے۔ایک اصلاح بھی ہے کہ تاریک رات میں موج و گرداب کا خوف نہیں ہوتا چور کا ضرور ہوتا ہے۔گو غافل کی رعایت سے چور درست ہے اور ساحل کی رعایت سے موج و گرداب درست ہے۔مگر اس بحری طوفان میں ساحل پر سیر و تفریح کرنے والے کیسے پہنچ گئے۔یہ ایک رعایت لفظی ہے اور حضرت کا کلام ایک حقیقت پر مبنی حادثہ ہے جس کے بیان کیلئے ضائع بدائع کے سہارے کی ضرورت نہیں۔حضرت فرماتے ہیں کہ دشمن اسلام کا حقیقی مال و متاع لوٹ رہے ہیں مگر قوم غافل ہے اور یہ کہ آپ کو اس غم سے خدا تعالیٰ کی نصرت ہی نجات دلا سکتی ہے۔یہ ایک واقعاتی صدق پر مبنی مشاہدہ ہے۔حافظ کی طرح سے تختیل اور لفظی ہنرمندی نہیں ہے۔تاہم ترکیب الفاظ اور