ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 119 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 119

119 ادب المسيح اس بات کے ثبوت میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ حضرت نے اپنی تحریر اور تقریر میں بہت سے مقامات پر ان شاعروں کے اشعار کو قبول کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔محترم عبد الحق صاحب رامہ مرحوم کی تلاش کے مطابق آپ حضرت نے شیخ سعدی کے توے سے بھی زائد شعر اور ان کے بعد مولانا روم اور حافظ شیرازی کے چھپیں چھپیں اشعار اختیار کئے ہیں۔فارسی ادب میں غزل کی صنف کے بارے میں بیان ہو چکا ہے کہ بقول علامہ شبلی " غزل کا اصل خمیر عشق و محبت کا اظہار ہے اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اساتذہ ادب نے اس صنف شعر کو صرف مجازی عشق کے بیان سے مخصوص نہیں کیا بلکہ محبوب حقیقی کی محبت اور عشق کا اظہار اس صنف کا مقبول موضوع ہے۔عشق و محبت کے طرز بیان میں جو عنا صر ادب غزل کے اجزائے اعظم ہیں وہ علامہ شبلی کے کہنے کے مطابق دحسن بیان ، خوبی ادا اور زبان کی شستگی ہے۔اور ان تمام عناصر کا اجتماع حافظ شیرازی کے کلام میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس کی فارسی میں جو بھی چند ایک غزلیں ہیں وہ حافظ شیرازی کے اسلوب بیان کی حسن و خوبی رکھتی ہیں۔اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ حافظ کا کلام مجازی معانی اور تعبیر کی راہ سے محبوب حقیقی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور حضرت کا خطاب بر ملا اور ظاہر محبوب حقیقی اور اس کی واردات عشق و محبت کو بیان کرتا ہے اور یہی وہ فرق ہے جو ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم آپ حضرت کے کلام کو ایک منفرد اور جدا گانہ مکتب شعر کہیں۔حافظ شیرازی کے اسلوب کے تتبع میں اول تو آپ حضرت کی ایک غزل مسلسل ہے جو آپ نے ردیف اور قافیہ کی تبدیلی کے ساتھ تخلیق کی ہے۔حافظ کی یہ ایک مشہور عالم اور مقبول عام غزل ہے جس کا مطلع یہ الا يَا أَيُّهَا السَّاقِي اَدِرُ كَاسًا وَّ نَاوِلُهَا که عشق آسان بود اول ولی افتاد مشکل با ترجمہ: اے ساقی پیالہ دے اور اس کا دور چلا کیونکہ اول اول عشق آسان لگتا ہے مگر پھر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔حضرت اقدس اس کے جواب میں کہتے ہیں: بده از چشم خو د آبی درختان محبت را مگر روزے دہندت میوہ ہائے پُر حلاوت را ترجمہ: محبت کے درختوں کو اپنی آنکھوں کے پانی سے سیراب کرتا کہ ایک دن وہ تجھے شیریں پھل دیں۔