ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 92 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 92

المسيح 92 نیا بد بدو نیز اندیشه راه که او برتر از نام و از جانگاه اس کی ہستی تک عقل کی رسائی نہیں کیونکہ وہ نام ونشاں سے بالاتر ہے خرد را و جان را ہمیں سنجد او در اندیشه سختہ کے گنجد او عقل اور جسم اس سے زندہ ہے اس لیے ناقص خیال میں وہ کیسے سما سکتا ہے به هستیش باید که خسته شوی بیکار یکسوشوی ز گفتار بیکار اس کی ہستی کے بارے میں بہتر ہے کہ اقرار کر لیا جائے اور بے کار گفتگو کو ترک کیا جائے ز دانش دل پیر برنا بود توانا بود هر که دانا بود عقل مند انسان طاقت ور ہوتا ہے اور عظمندی سے بوڑھے کا دل بھی جوان ہو جاتا ہے ازیں پرده برتر سخن گاه نیست هستیش اندیشه را راه نیست اس بیان سے بہتر کوئی بیان نہیں کہ اس کی ہستی تک عقل کی رسائی نہیں ہے اس کے مقابل پر مثنوی کی طرز پر حضرت اقدس کا فرمان مشاہدہ کریں۔حمد و شکر آں خدائے کردگار کز وجودش وجودی آشکار ہر اس خدائے کردگار کی حمد اور شکر واجب ہے جس کے وجود سے ہر چیز کا وجود ظاہر ہوا ایں جہاں آئینہ دار روئے اُو ذره ذره ره نماید سوئے اُو یہ جہان اس کے چہرے کے لیے آئینہ کی طرح ہے ذرہ ذرہ اُسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے کرد در آئینه ارض و سما اں رُخ بے مثل خود جلوہ نما اس نے زمیں و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے ہر گیا ہے عارف بنگاه او دست ہر مثل چهره وکھلا دیا شاف نماید راه او گھاس کا ہر پتہ اس کے کون ومکان کی معرفت رکھتا ہے اور درختوں کی ہر شاخ اُسی کا راستہ دکھاتی ہے تور مهر و مه زِ فیض نُورِ اوست ہر ظہورے تابع منشور اوست چاند اور سورج کی روشنی اُسی کے نور کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور اُسی کے شاہی فرمان کے ماتحت ہوتا ہے ہر سرے سرے زِ خلوت گاہ او ہر قدم جوید در با جاه أو ہر سر اُس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اُسی کا باعظمت دروازہ تلاش کرتا ہے مطلب ہر دل جمال روئے اُوست گھر ہے گرہست بہر کوئے اُوست اُسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اور کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اسی کے کوچہ کی تلاش میں ہے