ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 93 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 93

93 ادب المسيح اوّل تو عرفان ہستی باری تعالیٰ میں فردوسی سے بعد اور اختلاف ہے۔فردوسی کے بیان میں ایک نا کامی اور لا حاصلی ہے۔اس کے خیال میں باری تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے۔بہتر ہے کہ اس کی ہستی کو قبول کر لیا جائے۔دوسری طرف حضرت اقدس ایک زندہ خدا کی ہستی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں اور کائنات کے ہر ذرہ کو اس ہستی کا گواہ ٹھہراتے ہیں اور انسان کی ہر تمنا اور مقصود کو دراصل باری تعالیٰ کی تلاش کا عمل قرار دیتے ہیں۔یہاں تک کہ اگر کوئی گمراہ بھی ہے تو بھی وہ عرفانِ باری تعالیٰ کی تلاش ہی میں گم گشتہ راہ ہے۔عرفان باری تعالیٰ میں فردوسی کی اس کم مائیگی کا جواز ہے کہ وہ حضرت کی طرح سے عارف باللہ اور واصل باللہ انسان نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس کے اشعار میں تاثیر نہیں۔شعر کا ابلاغ کامل تاثیر سے ہوتا ہے اور تا شیر صرف موضوع یا مواد سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ شعر ہونے کے ناطے سے الفاظ اور تراکیب کا حسین اور دلفریب ہونا اس کی تخلیق کا باعث ہوتا ہے اور وہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ صاحب شعر کے جذبات قلبی اور مشاہدات روحانی اس کی اپنی واردات عشق و محبت ہوں۔مثنوی کے اسلوب بیان کے اعتبار سے بھی مشاہدہ کریں کہ فردوستی کے بیان میں کوئی ترتیب نہیں ہے۔مضامین میں تکرار ہے اور ترکیب لفظی کے اعتبار سے کلام میں بندش کی خوبی اور اس کا حسن و جمال بالکل مفقود ہے۔ایک تکنیکی طرز بیان ہے اور اس کے حاصل کلام شعر ( جو کہ ایرانی تہذیب میں مقبول عام ہے ) توانا بود هر که دانا بود زدانش دل پیر برنا بود تعلق ہے اپنی معنوی اور لفظی بندش کی خوبی کے باوجود موضوع کلام سے بے ابیات اور مثنوی کے اسلوب کے بیان میں ہم نے مولانا رومی کو شامل کیا ہے۔کیونکہ آپ کی مثنوی بھی فارسی شعر میں شاہکار سمجھی جاتی ہے۔واصلین باری تعالیٰ کے مناقب کے بیان میں مولانا رومی کہتے ہیں۔بندگان خاص علام الغيوب در جہاں جانِ جواسیس القلوب اس خدائے عالم غیب کے خاص بندے روحانیت کی دنیا میں دلوں کے جاسوس ہوتے ہیں۔با ازل خوش با اجل خوش شاد کام فارغ از تشنیع و گفت خاص وعام وہ مشیت ازلی پر راضی اور اجل سے خوش ہوتے اور خاص و عام کے طعن وتشنیع سے بے پرواہ رہتے ہیں۔