ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 444
المسيح 444 فارسی زبان میں اپنے قرب الہی کے بیان میں بے انتہا حسین اور دلر با اشعار ہیں۔فرماتے ہیں: هر که در عهدم ز من ماند جدا می گند بر نفس خود جور و جفا جو میرے زمانہ میں مجھ سے جدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔پر ز نور داستان شد سینه ام شد نے دستے صیقل آئینه ام ز محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا پیکرم شد پیکر پار ازل کار من شد کار دلدار ازل میرا وجود اُس یار از لی کا وجود بن گیا اور میرا کام اُس دلدارِ قدیم کا کام ہو ہو گیا بسکه جانم شد نہاں در یار من ہوئے یار آمد ازیں گلزارِ من چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لیے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی از گریبانم برآمد دلبری ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے۔وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا ہے۔احمد آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جامِ من است احمد آخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی دُنیا کے لیے ) آخری جام ہے۔نور حق داریم زیر چادرے غزل کی صنف میں فرماتے ہیں : الا اے دشمن ناداں و بے راہ بنترس از تیغ بران محمد اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر ره بجو در مولی که گم کردند مردم آل و اعوان محمد خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور انصار میں ڈھونڈھ الا اے منکر از شان محمد هم از نور نمایان محمد خبر دار ہو جا! اے وہ شخص جو محمد کی شان نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر نے غلمان محمد ز اگر چہ کرامت اب مفقود ہے۔مگر تو آ اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے