ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 443 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 443

443 ادب المسيح بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے اور فرماتے ہیں۔یہ کیا احساں ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دُنیائے مادی عربی زبان میں فرماتے ہیں : فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي بِوَجُهِكَ مَا أَنُسَى عَطَايَاكَ بَعْدَهُ وَ فِي كُلِّ نَادٍ نَبا فَضْلِكَ اَذْكُرُ تیری ذات کی قسم ! اس کے بعد میں تیرے احسانات کو نہ بھولوں گا۔اور ہر مجلس میں تیرے فضل کی عظیم الشان خبر کا ذکر کرتا رہوں گا تُلتِيْكَ رُوحِي دَائِمًا كُلَّ سَاعَةٍ وَ إِنَّكَ مَهُمَا تَحْشُرُ الْقَلْبَ يَحْضُرُ میری روح ہمیشہ ہر گھڑی تجھے لبیک کہتی ہے۔اور بے شک تو جب بھی میرے دل کو بلاتا ہے وہ حاضر ہو جاتا ہے وَ تَعْصِمُنِي فِي كُلِّ حَرُبٍ تَرُحُمًا فِدًى لَّكَ رُوحِي أَنْتَ دِرْعِي وَ مِعْفَرُ اور تو مجھے از راہ تر تم ہر لڑائی میں بچالیتا ہے۔میری روح تجھ پر قربان جائے۔تو ہی میری زرہ اور خو د ہے يُنَوِّرُ ضَوْءُ الشَّمْسِ وَجُهَ خَلَائِقِ وَلَكِنْ جَنَانِي مِنْ سَنَاكَ يُنَوَّرُ سورج کی روشنی تو مخلوق کے چہرے کو منور کرتی ہے۔لیکن میرا دل تیرے نور سے منور ہو جاتا ہے گذشتہ کے عنوانات کے تحت حضرت اقدس کا منصب و مقام پیش کرنے کے بعد ہم چند ایک بہت ہی دلفریب نمونے پیش خدمت کرتے ہیں۔