ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 411
411 ادب المسيح ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاویگا۔اور فرمایا کہ دعا انسان کا خدا تعالیٰ سے رشتہ قائم کر دیتی ہے۔(تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی یہ دعا ایسی شی ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔اور دعا کی تاثیر کے بارے میں فرمایا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دعار بوبیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے اگر دعاؤں کا اثر نہ ہوتا تو پھر اُس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔اور دعا کی اہمیت کے بارے میں فرمایا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اسلام کی صداقت اور حقیقت دعا ہی کے نکتہ کے نیچے مخفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نماز بے فائدہ ،زکوۃ بے سود اور اسی طرح سب اعمال معاذ اللہ لغو ٹھہرتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس) اور فرمایا کہ دعا کرنا قرآن کریم نے فرض قرار دیا ہے اور اس کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔دُعا جو خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں (۱) ایک یہ کہ تا ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر تو حید پر پختگی حاصل ہو۔کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مُرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ تا دُعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔(۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔(۴) چوتھے یہ کہ دعا کی قبولیت کا الہام اور رویا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔(تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور آخر پر سب سے اچھی دعا کی نشاندہی میں فرماتے ہیں: سب سے عمدہ دُعا یہ ہے کہ خدا کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو۔کیونکہ