ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 410 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 410

ب المسيح 410 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِني قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَانِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: 187) اول مقام پر حضرت اقدس اس فرمان کے تحت فرماتے ہیں کہ دعا کا قبول ہو نا خدا کی ہستی پر دلیل ہے۔فرماتے ہیں: یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آسکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دُعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی سُنتا ہوں اور اپنے الہام سے اُس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپا یہ یقین پہنچتا ہے۔لیکن چاہئیے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوں۔اور نیز چاہیے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جوان کو معرفت تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے۔کیونکہ جوشخص ایمان لاتا ہے اس کو عرفان دیا جاتا ہے۔۔اور فرماتے ہیں: ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت ہے چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔وَإِذَا سَانَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہد و کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں۔یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے جب کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے غرض دعا بڑی دولت اور طاقت ہے۔اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنے مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔دعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی