ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 381
381 ادب المسيح ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بدزبانی تقویٰ کی جڑھ یہی ہے صدق وصفا یہی ہے عاشقانِ الہی کے لئے راہ سلوک کو روشن کرنے والا ایسا کلام کہاں ملے گا۔آسان فہم اور سہل ممتنع بے انتہاء مؤثر اور دل ہلانے والا کلام ہے۔یہی وہ نور ہے جس کے بیان میں آپ فرماتے ہیں۔آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا یاؤ گے لو تمہیں طور نسلی کا بتایا ہم نے اور آخر پر فرماتے ہیں کہ تقوی خدا تعالیٰ کے عشق سے حاصل ہوتا ہے اور اگر یہ نہیں تو پھر ” کون ہے جسکے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اُسکے جس کا دلفگار رنگ تقوی سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار کو چڑھے سُورج نہیں بن رُوئے دلبر روشنی یہ جہاں بے وصل دلبر ہے شب تاریک و تار اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بینظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پالیتے ہیں وہ اور دوسرے اُمید وار کون ہے جسکے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اُسکے جس کا دلفگار غیر ہوکر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل وشرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر عشق ہے جو سر جُھکا دے زیر تیغ آبدار