ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 368 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 368

المسيح 368 بیچ آگهی نبود ز عشق و وفا مرا خود ریختی متاع محبت بدانم مجھے عشق و وفا کی کچھ بھی خبر نہ تھی تو نے ہی خود محبت کی یہ دولت میرے دامن میں ڈال دی يارب مرا بہر قدمم استوار دار واں روز خود مباد کہ عہد تو بشکنم اے رب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد توڑوں در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسیکه لاف تعشق زند منم! اگر تیرے کو چہ میں عاشقوں کے سرا تارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعوی کرے گا وہ میں ہوں گا اور یہ عہد کیا ہے یہی کہ محبت میں استوار رہنا اور وفا دکھانا۔ان دو اشعار کو دوبارہ پڑھ لیں۔ایسی وفا اور اُس کے حصول کی دعا کہاں دستیاب ہوگی اور پھر اسی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے صدق و وفا کے داب کی تعلیم دی اور الہاما فرمایا۔میگزارد با محبت باوفا صادق آن باشد که ایام بلا صادق وہ ہوتا ہے کہ ابتلا ؤں کے دن محبت اور وفاداری سے گزارتا ہے بوسد آن زنجیر را کز آشنا گر قضا را عاشقی گردد اسیر اگر قضائے الہی سے عاشق قید ہو جاتا ہے تو وہ اُس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہو۔تذکرہ صفحہ 255۔مطبوعہ 2004ء) اور اس تعلیم کی روشنی میں آپ نے محبت الہی میں اپنا مسلک بیان کیا اور محبوب حقیقی سے محبت کے آداب سکھائے۔سینہ می باید تهی از غیر یار! دل ہے باید پر از یاد نگار! یار کے سوا ہر چیز سے سینہ خالی ہونا چاہئیے اور دل محبوب کی یاد سے بھرا رہنا چاہیئے جاں ہے باید براہِ اُو فدا سر ہے باید بپائے او شار جان اُس کی راہ میں قربان ہونی چاہئیے اور سر اُس کے قدموں میں شمار ہونا چاہیئے هیچ دانی چیست دین عاشقاں گوئمت گر بشنوی عشاق دار کیا تجھے معلوم ہے کہ عاشقوں کا دین کیا ہوتا ہے؟ میں تجھے بتا تا ہوں اگر تو عاشقوں کی طرح سُنے از همه عالم فرو بستن نظر لوح دل شستن ز غیر دوستدار وہ یہ ہے کہ سارے جہاں کی طرف سے آنکھ بند کر لینا اور دوست کے سوا ہر چیز سے دل کی سختی کو دھوڈالنا اس مقام پر عاشق الہی یہی کہتا ہے۔