ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 369
در رو عالم مرا عزیز توئی 369 و ار آنچه می خواهم از تو نیز توئی ، المسيح دونوں جہانوں میں تو ہی مجھے عزیز ہے۔اور جو میں تجھ سے طلب کرتا ہوں وہ تو ہی ہے۔اور اپنا مذھب عشق بیان کر کے اپنے عشق کی کیفیت سناتے ہیں کہ میرے لیے دوا تجویز نہ کر محبت کے رنج و غم میں ہی میرا اعلاج ہے۔مرانہ زہد و عبادت نه خدمت و کاری است ہمیں مرا است که جانم رہینِ دلداری است میرے پاس نہ زہد ہے نہ عبادت نہ خدمت نہ اور کوئی کام۔صرف ایک بات ہے کہ میری جان اس دلدار کے پاس گرو پڑی ہوئی ہے چہ لڈ تے است برویش کہ جاں فدایش باد چه راحت است بگولیش اگر چه خوں بارے است اس کے چہرہ میں ایسی لذت ہے کہ جان اس پر قربان ہے اس کی گلی میں عجیب لطف ہے اگر چہ وہاں خون کی بارش ہوتی ہے مسیح وقت مرا کرد آنکه دید ایں حال بہ میں دلائلِ دعوای اگرچہ بریکاری است خدا نے جب میرا یہ حال دیکھا تو مجھے مسیح الزمان بنا دیا اب تو میرے دعوے کے دلائل دیکھ گو (تیرے نزدیک ) یہ بیکار ہے۔روائے عشق نخوا ہم کہ آں ہلاکت ماست شفائے ما بہ میں رنج و درد و آزاری است میں عشق کا علاج نہیں چاہتا کیونکہ اس میں ہماری ہلاکت ہے ہماری شفا تو اس رنج و درد اور بیماری میں ہے اور آخر پر دیکھیں کہ کیسا دل گداز فیصلہ کرتے ہیں فرماتے ہیں: ہماں یہ کہ جاں در ره او فشانم جہاں راچہ نقصاں اگر من نمانم یہی بہتر ہے کہ میں اُس کی راہ میں جان قربان کر دوں۔اگر میں نہ رہوں تو دنیا کا کیا نقصان ہے