ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 356
المسيح 356 مضمون کی ہمہ گیرا ہمیت کا بیان ہو گیا۔اُردو زبان میں اب ہم اپنے دستور کے مطابق اس مضمون میں حضرت اقدس کے اردو کلام کے نمونے پیش کرتے ہیں۔اول قدم پر ایک ایسا قطعہ کلام ہے جس کا حسن و جمال بیان کرنے کے لئے کسی قلم میں طاقت نہیں ہے۔یہ کلام اپنے جذبے اور تاثیر میں اپنی قلبی تمنا کے اظہار میں اور اردو ادب کے اسالیب کی پاسداری میں ایک بے مثال اور شاہرکا را شعار کا نمونہ ہے۔محبت الہی کے مضمون میں ہزار تلاش کرنے پر بھی ایسا کلام نہیں ملے گا اور مل بھی نہیں سکتا کیونکہ نہ کوئی باری تعالیٰ کا ایسا عاشق ہوگا اور نہ اُس کے قلب سے ایسا کلام جاری ہوگا۔فرماتے ہیں۔مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے بیان اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْاعَادِي ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي محبت الہی کے بیان میں دوسرا شاہکار کلام بھی ہر ادبی خوبی اور قلبی جذبات محبت کے اظہار میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔اس کی تاثیر تو ایسی ہے کہ آپ کی جماعت نے گذشتہ ایک صدی سے اس کلام کو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی جناب میں دعا کی باریابی کا تعویذ بنارکھا ہے۔کوئی جماعتی اجتماع اور خاندانی تقریب ایسی نہیں ہوتی کہ اس کلام