ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 357
357 ادب المسيح کو حصول برکات کیلئے نہایت محبت اور ترنم سے پڑھا نہ جائے۔فرماتے ہیں۔حمدوثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اسکے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارجانی سب دل میں مرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہلِ قُربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اسکی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کر و محبت غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اسکی غیرت اور فرماتے ہیں: یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے تجھ پر مرا توکل در پرترے یہ سر ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جب تجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا شکر اے خدایا! جاں کھو کے تجھ کو پایا پر یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِـي دیکھا ہے تیرا منہ جب چکا ہے ہم پہ کو کب مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب تیرے کرم سے یا رب میرا کر آیا مطلب یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اور اس محبت کے اظہار کو دیکھیں۔ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تیرے ملنے کے لیے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا