ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 301 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 301

301 ادب المسيح مدحت و ترغیب دینِ اسلام عربی زبان میں جیسا کہ بہت مرتبہ بیان ہو چکا ہے کہ حضرت اقدس کے ادبی شاہ پاروں کی ایک عظیم الشان خوبی یہ ہے کہ وہ ہر زبان کے ادب عالیہ کے اقدار کی پاسداری کیساتھ بیان ہوئے ہیں اور پاسداری بھی ایسی کہ تینوں زبانوں کے اساتذہ شعر آپ کے موضوعات میں اپنی ہی زبان میں آپ کے کلام کے مقابل پر نہیں آسکتے عربی زبان کا کلاسیکی دستور ا دب جاہلیہ نے متعین کیا ہے اور اس کی اول پہچان مبارزت ہے یعنی زندگی کے تمام جذبات کے اظہار میں تقابل اور تفاخر۔باجود اس کے کہ آپ حضرت کے موضوعات ادب جاہلیہ سے کوئی اشتراک نہیں رکھتے۔آپ حضرت نے عربی کی اس ادبی قدر کو بہت احسن انداز میں برقرار رکھا ہے زیر نظر موضوع کی امثال کو مشاہدہ کریں تو یہ حقیقت بہت واضح ہو جائے گی حمایت اسلام میں فرماتے ہیں: شَمْسُ الْهُدَى طَلَعَتْ لَنَا مِنْ مَكَّةَ عينُ النَّدَا نَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہدایت کا آفتاب ہمارے لئے مکہ سے طلوع ہوا۔بخششوں کا چشمہ ہمارے لئے حراء سے پھوٹ پڑا ضَاهَتُ أَيَاةُ الشَّمْسِ بَعْضَ ضِيَائِهِ فَإِذَا رَأَيْتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائِي سورج کی شعاعیں اس کی ضیاء کے ایک حصہ سے مشابہ ہیں جب میں نے (اس سورج کو ) دیکھا تو اس سے میرے رونے میں ہیجان پیدا ہو گیا أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ هِمَمَنَا فِي دِينِهِ نَبْنِي مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوْزَاءِ خدائے مہمن نے اپنے دین کے بارہ میں ہماری ہمتوں کو بلند کیا ( چنانچہ ) ہم اپنی منزلیں ستارہ جوزاء پر بنا رہے ہیں تَسْعَى كَفِتيَانِ بِدِينِ مُحَمَّدٍ لَسْنَا كَرَجُلٍ فَاقِدِ الْأَعْضَاءِ ہم محمد کے دین کے لئے نوجوانوں کی طرح سعی و کوشش کرتے ہیں۔ہم اس آدمی کی طرح نہیں جس کے اعضاء ہی مفقود ہو گئے ہوں نِلْنَاثُرَيَّاءَ السَّمَاءِ وَ سَمُكَهُ لِنَرُدَّ إِيمَانًا إِلَى الصَّيْدَاءِ ہم آسمان کے ثریا اور اس کی بلندیوں تک پہنچ گئے تا کہ ہم ایمان کو زمین پر واپس لے آئیں إِنَّا جُعِلْنَا كَالسُّيُوفِ فَنَدْمَعُ رَأْسَ اللَّـنَـامِ وَهَامَةَ الْأَعْدَاءِ ہمیں تلواروں کی طرح بنایا گیا ہے سو ہم کمینوں کے سر اور دشمنوں کی کھوپڑیاں توڑ ڈالتے ہیں