ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 289 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 289

289 ادب المسيح اگر آیت إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران (20) کو سامنے رکھ کر ان اشعار کو پڑھیں تو پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ اتباع لفظ و معانی کس کو کہتے ہیں۔جیسے کہ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دينا ( ال عمران : 86) کتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں: اسلام چیز کیا ہے؟ خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پٹے مرضی خدا یہاں پر غَيْرَ الْإِسْلامِ دِینا کے یہی معانی ہیں کہ خدا کی رضا کے خلاف دین۔حقیقی اسلام کو حضرت نے موت قرار دیا ہے فرماتے ہیں۔جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات اسی طور سے دیگر فرمودات قرآن کا اتباع ہے جو معمولی ذوق ادب رکھنے والے کے لیے بھی واضح ہو گا۔فرماتے ہیں: اسلام کی سچائی ثابت ہے جیسے سُورج پر دیکھتے نہیں ہیں دشمن کا یہی ہے کھل گئی سچائی پھر اس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہِ حیا یہی ہے جو ہو مفید لینا جو بد ہو اُس سے بچنا عقل و خرد یہی ہے فہم و ذکا یہی ہے ملتی بادشاہی اس دیں سے ہے آسمانی اے طالبان دولت! ظل ہما یہی ہے سب دیں ہیں اک فسانہ شرکوں کا آشیانہ اُس کا ہے جو یگانہ چہرہ نما یہی ہے سو سو نشاں دیکھا کر لاتا ہے وہ بلا کر مجھ کو جو اُس نے بھیجا بس مدعا یہی ہے کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ اسلام کے چمن کی بادِ صبا یہی ہے