ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 288
المسيح 288 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِي الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: 4) آپ حضرت اس فرمان کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں آج میں نے تمہارے لیے دین تمہارا کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو پسندیدہ کر لیا۔اس فرمانِ خداوندی کی مزید تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) غرض یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُم مسلمانوں کے لیے کیسے فخر کی بات ہے۔۔۔۔۔المال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اتار دیں بلکہ تکمیل نفس اور تطہیر قلب کی۔وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقل مند اور با اخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بنا دیا۔اور تطہیر نفس۔تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کرا دئے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس مقام تک ہم نے تین فرمودات باری تعالی پیش کئے ہیں اوّل فرمان ایک اعلانِ عام کی صورت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں حقیقی دین صرف اسلام ہے اور دوسرے فرمان میں ایک تنبیہ ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین رکھنے والا مقبول نہیں ہوگا اور نقصان اُٹھائیگا۔اور تیسرے فرمان میں دین اسلام کی خوبی کو بیان کر کے اس کو انسانیت کیلئے نعمت قرار دیا ہے مشاہدہ کریں کہ ان تین مضامین کو ہمارے پیارے مسیح دوراں نے کس خوبصورتی اور قلبی درد کیساتھ پیش کیا ہے اور اس بیان میں آپ حضرت کا اتباع قرآن بھی دیدنی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آپ ان آیات کا شعر میں ترجمہ فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں: اسلام سے نہ بھاگو راہ ھدی یہی ہے اے سونے والو جا گو! شمس الضحی یہی ہے کو قسم خُدا کی جس نے ہمیں بنایا اب آسماں کے نیچے دینِ خُدا یہی ہے وُہ دِلستاں نہاں ہے کس رہ سے اُس کو دیکھیں مشکلوں کا یارو! مشکل گشا یہی ہے ان