ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 290
ب المسيح 290 یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ اے گرنے والو دوڑو دیں کا عصا یہی ہے کس کام کا وہ دیں ہے جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی میرے پیارو!زریں قبا یہی ہے دوسرے مقام پر آپ کی عالیشان نظم ہے۔ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دیکھلائے یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا ٹور ہے اور اُٹھو دیکھو سُنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں ٹور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہی باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے آزمائش کے لیے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ نکلا یا ہم نے اس طور سے کلام کہنا اور باغ محمد سے روحانی اثمار نوش کرنا اُسی کے نصیب ہوسکتا ہے جو واصل باللہ ہو اور جس کو باری تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت کے نشان دکھائے ہوں۔آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلا یا ہم نے جب سے یہ نور ملانور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے چولہ بابا نانک کی نظم میں بھی اسی صداقت کو پیش کر رہے ہیں کہ بابا صاحب کو الہام میں بتایا گیا تھا کہ جس خدا کی وہ تلاش کر رہے ہیں وہ اُن کو اسلام میں ہی ملے گا۔وہ ہے مہربان و کریم و قدیر قسم اُس کی، اُس کی نہیں ہے نظیر جو ہوں دل سے قربانِ رب جلیل نہ نقصاں اُٹھاویں نہ ہوویں ذلیل اسی سے تو نانک ہوا کامیاب کہ دل سے تھا قربان عالی جناب