ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 263
فرماتے ہیں: 263 ادب المسيح ہم تھے دلوں کے اندھے سوسو دلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے جندے وہ مجتبی یہی ہے اس اسلوب پر ایک اور عظیم الشان نعت کا بھی مشاہدہ کریں۔اس نعت میں ایک ندرت بیان یہ بھی ہے کہ اس کا مطلع صداقت اسلام کے بیان میں ہے۔نعت رسول میں یہ اس لحاظ سے نادر بات ہے کہ حقیقت میں آنحضرت کی نعت و منقبت کا مدار اسی پر ہے کہ آپ حضرت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری دین اور آخری کتاب کیساتھ مبعوث کیا ہے اس حقیقت کو آپ نے بہت ہی حسین انداز میں پیش کیا ہے اور یہی آپ حضرت کی نعت کا نقطہ مرکزی ہے۔فرماتے ہیں : ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے یہ قمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کرکے دیکھا نور ہے نور اُٹھو دیکھو سُنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے اور آگے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کونور الہی کے حامل ہونے کا بیان ہے اور پھر آپ کی محبت میں اس نور سے نہایت درجہ حصہ پانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عاشقانہ دعا ہے۔مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت فرماتے ہیں: جس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے لو تمھیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آؤ لوگو! کہ یہیں نور خدا پاؤ گے!!