ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 264
المسيح 264 آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں مصطفے دل کو اِن نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے ترا بیحد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خُدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے اور عشق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے محامد میں بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں: تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے دلبرا ! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ ترا نقش جمایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے ہم ہوئے خیر ام تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے