ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 252 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 252

المسيح 252 فَاتَّبِعُونِي يُعْبُكُمُ الله یعنی ان کو کہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔اب غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع محبوب الہی تو بنادیتی ہے۔پھر اور کیا چاہیے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب الہی ہونے اور ان کے متبعین کو محبت الہی کے عطا کرنے کی برکات کے بیان میں ایک عظیم الشان فرمانِ حضرت اقدس ہے: دو قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔اوّل: اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي - دوم: يَأَيُّهَا الَّذين امنوا صلوا عليه و سلّموا تسليمًا۔تیسرا: موهبت الهی ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 38 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو خدا تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے بغیر اس کے یہ مقام مل ہی نہیں سکتا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اسی مضمون کے تسلسل میں یہ فرمان الہی بھی ہے کہ رسول اکرم کے اسوہ کے سوا خدا تعالیٰ کا قرب اور وصال حاصل نہیں ہو سکتا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب : 22) حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے اتباع سے خدا ملتا ہے اور آپ کے اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا ر ہے گوہر مقصود اس کے ہاتھ میں نہیں آسکتا چنانچہ سعدیؒ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بتاتا ہے۔بزہد و ورع کوش و صدق وصفا ولیکن میفزائے مصطف پر زہد و ورع میں کوشش کرو مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق یہاں تک روحانی اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی منصب و مقام کا ذکر ہوا ہے۔اب انسانِ