ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 251
251 ادب المسيح قسم کی قساوت اور کبھی کو دور کر کے زمین کو ایسا صاف کر دے جیسے زمیندارز مین کو صاف کرتا ہے۔اور فرمایا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہوکر نشو ونما پائیں گے۔اور وہ انمار شیر میں وطیب ان میں لگیں گے جو اُحُلُهَا دَ آبِعُ (الرعد: 36) کے مصداق ہوں گے“۔( تفسیر حضرت زیر آیت ھود ) اور عبادت نام ہے محبت کے انتہائی مقام کا۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کو ایسا قرب الہی عطا کیا گیا کہ وہ ہر اتباع کرنے والے کو واصل خدا بنا سکیں چنانچہ اول عنوان کے تحت یہ فرمانِ الہی پیش کیا جاتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيم (ال عمران: 32) حضرت اقدس اس فرمانِ الہی کی تفسیر میں فرماتے ہیں: سوال مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہئے ”میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں آرام دونگا۔اور یہ کہ میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں میں زندگی اور راستی ہوں“۔کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کیے ہیں۔الجواب: قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يحبكُمُ الله - الخ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تاخُدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے۔کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب عالی کے بیان میں فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا مقام تو یہ تھا کہ آپ محبوب الہی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی اس مقام پر پہنچنے کی راہ بتائی جیسا کہ فرمایا قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ