ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 219 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 219

219 ادب المسيح لیے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے۔اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) اس لیے تمام معمولات زندگی اس مرکزی مضمون کے گرد طواف کرتے ہیں۔اگر یہی حقیقت ہے اور یقیناً ہے تو اس مضمون کی وسعتوں کا اندازہ بھی ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ باری تعالیٰ جل شانہ کی ثناء کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ہمارے پیارے مسیح علیہ السلام نے کتنی محبت سے یہی بات کی ہے۔يا من احاط الخلق بالالاء نشنی علیک و لیس حول ثنائی اے وہ ذات جس نے اپنی نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کر رکھا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں مگر تعریف کی طاقت نہیں پاتے اس صورت میں ہم نے اول تو یہ دستور بنایا ہے کہ حمد و ثناء کے مضمون کو قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات تک محدود رکھیں۔کیونکہ عرفان باری تعالیٰ کے ان سرچشموں کے سوا تو سب غیر ہیں اور غیر کو غیر کی خبر کیا ہو دور کارگر کیا ہو اس احتیاط کو قائم رکھتے ہوئے ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ثناء باری تعالیٰ کے ان تیزی سے بہتے ہوئے چشموں سے اصولی فرمودات کے چلو بھر عنوانات لیے ہیں۔کیونکہ اگر اختصار کی کوشش نہ کی گئی تو یہ عنوان تو بے انتہاء ہے۔اس مقام تک ہم نے ثناء باری تعالیٰ کی تعریف عمومی ثناء اور باری تعالیٰ کی ذات اور صفات کے عنوانات پیش کئے ہیں۔اس تسلسل میں ایک بہت اہم عنوان باقی رہ گیا ہے اُس کا نام ذکر الہی ہے اس عنوان کو اہم اس لیے گردانا گیا ہے کہ اول بیان کردہ مضامین در اصل علمی مضامین ہیں جن میں باری تعالیٰ کی عظمت وشان اور حسن و جمال کا ذکر علمی اور معلوماتی طور پر ہوا ہے۔مگر ” ذکر الہی کا مضمون ایک عملی مضمون ہے۔جس میں شاء باری تعالیٰ کرنے کے آداب۔اس کی تلقین اور اس کی برکات کا ذکر ہوگا۔سب سے اول تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر الہی کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔دوار شاد پیش خدمت ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: