ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 218
ب المسيح 218 هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلهُ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں ہے۔ہے۔پھر فرمایا السَّلامُ یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔اور پھر فرمایا الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ یعنی وہ سب کا محافظ اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کام بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے۔هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنى وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے وہ باری ہے یعنی روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے۔وہ مصور ہے یعنی صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ عطا کرنے والا ہے کیونکہ اسی کے لئے تمام اسماء حسنہ ثابت ہیں یعنی جمیع صفات کاملہ جو باعتبار کمال قدرت کے عقل تجویز کر سکتی ہے اسکی ذات میں جمع ہیں۔لہذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلی کمال ہے۔اور پھر فرمایا يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) حمد وثناء باری تعالیٰ کا مضمون دراصل جان ہے تمام روحانی اور جسمانی نظام زندگی کی۔جیسے فرمایا وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمُ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل: 45) جس کی تفسیر میں حضرت اقدس کا بیان ہے: ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے اس کی طرف جھکنے کے