ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 220 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 220

المسيح 220 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اے مومنوں اللہ کا ذکر بہت کیا کرو اور صبح شام اسکی تسبیح کیا کرو اور فرماتا ہے۔(الاحزاب : 43،42) فَاذْكُرُونِي اَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة: 153) حضرت اقدس اس آیت کے معانی اور تفسیر میں فرماتے ہیں۔اور مجھے کو یاد کرو میں تم کو یاد کروں گا۔اور میرا شکر کرو اور مجھ سے دعا مانگو۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھونگا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اُس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات صاف ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) تم مجھ کو یاد رکھو یں تم کو یا درکھوں گا یعنی آرام اور خوشحالی کے وقت تم مجھ کو یا درکھواور میرا قرب حاصل کرو تا کہ مصیبت میں تم کو یا درکھوں۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اول بیان شده فرمان قرآن ہی کی تفسیر و تعبیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں کہ اور فرمایا: اور فرمایا: تم اتنی کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگیں“ (حصن حصین) 66% تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہنی چاہیئے (حصن حصین) اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور مردے کی سی ہے“ (حصن حصین ) ذکر الہی کے عنوان میں ہم سورۃ الفاتحہ میں بیان فرمودہ صفا اربعہ کا ذکر کر چکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت درجہ پیاری حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ الفاتحہ کی ثناء کسقد رقبول خاطر ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ جس طور سے قرآن کریم باری تعالیٰ کے اسماء حسنہ سے معمور ہے اُسی طور پر احادیث نبوی میں