ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 160 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 160

المسيح مخزن راز ہائے ربانی 160 از خدا اله خدا دانی ہے ترجمہ: وہ خدا کے اسرار کا خزانہ ہے خدا کی طرف سے خدا شناسی کا آلہ اس مقام تک ہم نے حضرت اقدس کے کلام کی علامت نور کو اس ترتیب سے پیش کیا ہے کہ اول نور سے مراد ہستی باری تعالی ہے اور دوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء و مرسلین ہیں۔اور سوم قرآن کریم ہے۔اور ان تمام علامتی استعاروں کو اختیار کرنے کی تصدیق اور توثیق کے لیے قرآن کریم کے فرمودات کو پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ بھی واضح ہو جائے کہ حضرت اقدس نے اس علامت کو از خود انتخاب نہیں کیا بلکہ یہ انتخاب قرآن کریم سے ماخوذ ہے اور کامل اتباع قرآن ہے۔اس تسلسل بیان میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ نور جو کہ نور کے حقیقی منبع یعنی باری تعالیٰ عز شانہ کی ہستی سے نکلا ہے دراصل عرفان باری تعالیٰ اور اس کی محبت کا نور تھا جو ہمارے آقا اور پیشوا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ سے انسان کے قلب و نظر کو منور کرنے کے لیے ایک دریائے نور کی طرح جاری ہوا اور اپنی نورانی امواج میں تمام انبیاء اور صلحاء کو منور کرتا ہوا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب وروح پر تحمیل پذیر ہوا۔جیسا کہ باری تعالیٰ نے فرمایا ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: 4) ترجمہ: آج میں نے تمہارے فائدہ کے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو مکمل کر دیا ہے اور تمہارے لیے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔اس نور کے سفر کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: كُنتُ نَبِيًّا وَالْآدَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالتِّيْنِ ترجمہ: میں اسوقت بھی نبی تھا جبکہ آدم جسم اور روح کے درمیان تھا۔اس فرمان نبوی کے معنوں میں حضرت فرماتے ہیں: روح او در گفتن قول بلی اول کسے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار ترجمہ: قول بلی کہنے میں آپ کی روح سب سے اول ہے۔آپ تو حید کے آدم ہیں اور آدم سے پہلے آپ کا خدا سے پیوند تھا۔