ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 161 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 161

اور فرماتے ہیں: 161 ادب المسيح آں شہِ عالم که نامش مصطفی سید عشاق حق شمس الضحی ترجمہ: وہ جہاں کا بادشاہ جس کا نام مصطفیٰ ہے جو عاشقانِ الہی کا سردار اور چمکتا ہوا سورج ہے آنکہ ہر نُورے طفیل نور اوست آنکه منظور خدا منظور اوست ترجمہ: وہ وہ ہے کہ ہر نور اسی کے طفیل سے ہے اور وہ وہ ہے کہ جس کا منظور کردہ خدا کا منظور کردہ ہے۔آنکه جمله انبیاء و راستاں خادمانش ہمچو خاک آستاں ترجمہ: وہ کہ تمام انبیاء اور راست باز لوگ خاک در کی طرح سے اس کے خادم ہیں۔یہ صیح ہے کہ اس دریائے نور کا آخری قیام وہی تھا جہاں پر اس نے ہمارے آقا اور پیشو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ صافی کے سمندر میں گرنا تھا۔مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس نور کے سمندر کا آخری تموج ایک اور بھی تھا جس کو اس نے۔وَأُخْرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة:4) کے فرمان میں بیان کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہی کی ایک تحجتی، عظیم ہوگی۔اور آپ ہی کے طفیل آپ کے نور کی ضوفشانی ہوگی اور ایسی ہوگی کہ گویا کوئی اور نہیں بلکہ آپ ہی تشریف لے آئے ہیں۔تی جلی مہدی آخر زمان اور مسیح دوران کی ہے جیسا کہ حضرت اقدس فرماتے ہیں: ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام ترجمہ: وہ خیر الرسل اور خیر الانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اس پر ہو چکی ہے۔آنچه ما را وحی و ایمائی بود آن نه از خود از ہماں جائے بود ترجمہ: جو وحی اور الہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے۔اور فرماتے ہیں: انبیاء گرچه بوده اند بسے من بعرفاں نہ کمترم نہ کسے ترجمہ: انبیاءاگر چہ بہت سے ہوئے ہیں مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں۔