ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page xv
ادب المسيح xvi حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس کوشش کو نظارت اشاعت کی طرف بغرض تبصرہ ارسال کیا گیا۔ناظر صاحب اشاعت کی طرف سے جو تبصرہ ہوا ہے وہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خاکسار نے صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی تصنیف ”ادب المسیح کا مسودہ اول سے آخر تک پوری توجہ سے پڑھا ہے۔حضور کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ تصنیف اپنی نوعیت اور موضوع کے اعتبار سے ایک علمی شاہکار ہے اور اس کی اشاعت جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں ایک گراں قدر اضافہ ہوگا۔محترم صاحبزادہ صاحب نے اپنی تصنیف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربی، فارسی اور اردو متینوں زبانوں کے شعری کلام کا ان تینوں زبانوں کے اساتذہ فن کے شعری کلام سے موازنہ کر کے ثابت کیا ہے کہ کیا موضوعات کے لحاظ سے اور کیا فن کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے۔در کلام تو چیزیست که شعراء را در آن دخلے نیست اس تصنیف میں کوئی بات سلسلہ کے معتقدات علم کلام اور روایات کے خلاف نہیں ہے۔۲۰/۱۱/۲۰۰۸ والسلام خاکسار سید عبدالحی، بہت ہی منصفانہ تبصرہ ہے مگر بہت ادب سے عرض کرتا ہوں خاکسار کی کوشش کی روح رواں کا ذکر نہیں کیا گیا۔یعنی یہ کہ حضرت اقدس کے موضوعات شعر قرآن کریم کے موضوعات ہونے کی بنا پر اول ہر موضوع پر قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو پیش کیا گیا ہے اور قرآن کریم کی اقتدا یا دب کو بھی حسب توفیق و استعداد پیش کیا گیا ہے۔اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت اقدس کا ادب قرآنی اقدار ادب کے اتباع میں ہے۔یہ گزارش اس غرض سے کی گئی ہے کہ قارئین کی اس طرف توجہ رہے۔کیونکہ یہی کتاب کی روح رواں ہے۔یہاں تک تو ادب اسیح کے تعلق میں چند علمی اور روحانی عظمت اور مقدرت رکھنے والی ہستیوں کی پسند کا ذکر ہے اور خاکساران سب کا شکر گزار ہے۔مگر جس ہستی کے تفصیلی تبصرے کی گزارش کی گئی تھی وہ ہمارے پیارے خلیفتہ المسح الخامس تھے۔آپ کا بیان تاخیر سے تیار ہوا۔اس لئے اس مقام پر پیش کیا جا رہا ہے۔فارسی کا محاورہ دیر آید درست آید یعنی جس کام میں تاخیر ہو جائے وہ بہتر ہو جاتا ہے۔ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔مگر اس کے حقیقی معنی سیدی کے موخر بیان سے کھلے ہیں۔