ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page xii of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page xii

xiii ادب المسيح چند یادیں۔وجہ افتخار و شکر میرے بڑے بھائی خلیفہ امسح الرائع بہت اعلیٰ درجہ کے شاعراور صاحب ذوق سلیم تھے۔بھائی ہونے کارشتہ تو تھاہی مگر مشترک ادبی رجحان ہونے کی بنا پر بھی ہم دونوں کا ایک تعلق تھا اور اکثر اوقات شعر وسخن کا تذکرہ رہتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ چند غزلیں ایسی بھی تھیں کہ اگر ایک مصرعہ ان کا ہے تو دوسرا خاکسار کا اور بہت مرتبہ میرے اشعار کی تعریف بھی کیا کرتے تھے۔مجھے افسوس ہے کہ وہ سب تحریریں محفوظ نہیں رکھ سکا۔ایک مرتبہ خاکسار نے ایک ہلکا پھلکا مقالہ حضرت میں موعود علیہ السلام کی فاری شاعری پر جامعہ احمدیہ کی مجلس میں پڑھا تھا اور اس کی نقل حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت میں ارسال کی تھی۔آپ نے اس مضمون کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ تمہاری تحریر عالمانہ ہے اس خدمت کو مکمل کرو۔یہ تمہارے قلبی رجحان کے مطابق ہے اور پھر بہت مرتبہ استفسار کرتے رہے کہ حنیف کا کام کہاں تک پہنچا ہے؟ افسوس ہے کہ جب ادب اسے کاکام مکمل ہوا تو آپ اپنے محبوب حقیقی کے پاس جاچکے تھے۔آپ کے ادبی اور دینی منصب کے اعتبار سے حضرت اقدس کے کلام کے محاسن کی بیش قدر قیمت کو سمجھنا آپ ہی کا منصب تھا۔تاہم میرے لئے یہ امر وجہ افتخار ضرور ہے کہ آپ کی نظر میں خاکسار اس خدمت کو سرانجام دینے کے قابل تھا۔ان سب یادوں سے یہ تو ثابت ہے کہ ادب اسیح “ کی تکمیل میں آپ کی تمنا اور دعا شامل تھی۔ایک مرتبہ آپ کی یاد میں کسی شاعر کا سلام میری نظر سے گزرا تو میں نے بھی برجستہ چندا شعار ”سلام کے عنوان سے کہہ کر آپ کی خدمت میں بھجوائے تھے۔یاد پڑتا ہے کہ اس کا مطلع کچھ اس طور سے تھا صبا جو گزرے تو اس گلی میں تو ان کو میر اسلام کہنا بہت محبت سے بات کرنا بطر ز صد احترام کہنا اور مقطع کیونکہ مجھے پسند آیا تھا اس لئے خوب یا د رہا ہمارے آنسو کو عشق مہدی میں آپ زمزم کا نام دینا ہمارے دل کو خدا کی الفت میں ایک بیت الحرام کہنا