ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page xi
ادب المسيح xii استعدادوں کو صیقل کرنے کی یہی راہ ہے۔اس ضمن میں عرض کرتا ہوں کہ گزشتہ پچھپیں ، تمہیں سال سے جبکہ خاکسار نے اپنے ذوق ادب کا رُخ حضرت اقدس کے کلام کی طرف موڑا ہے اور اس سے ایک محبت کا رشتہ قائم کر کے اس کی مقدور بھر خدمت کرنے کا ارادہ کیا ہے اس وقت سے علوم ادبیہ کے حصول کی اور ان تینوں زبانوں کے اُس سرمایۂ ادب کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے جو حضرت اقدس کے موضوعات شعر کے تحت آتے ہیں۔اس لیے علوم شعریہ سے مکمل طور پر نا واقف بھی نہیں اور اساتذ ہ ادب کے محاسن کلام کی پہچان کا مقدور بھر شعور رکھتا ہوں : دراصل یہ ایک معذرت ہے اپنے محبوب علیہ السلام کی جناب میں اور سچی بات بھی یہی ہے کہ یہ کوشش ایک علمی شاہکار کے طور پر نہیں کی جارہی۔یہ ایک اظہار محبت ہے جو خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ادب عالیہ سے ہے۔یقین ہے کہ کم قیمت ہونے پر بھی آپ حضور اپنی کمال شفقت سے اس تھے کو قبول فرما ئیں گے۔بفضلہ تعالیٰ عرفی شیرازی نے میرے دل کی بات کی ہے: امید هست که بیگانی عرقی را بدوستی سخن ہائے آشنا بخشند امید ہے کہ عرفی کے بیگانہ پن کو اپنے دوست کے اشعار سے محبت کی وجہ سے قابل در گذر سمجھا جائے گا۔