ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 34
ب المسيح 34 یہاں تک تو مرسلین کے مشاہدات اور جذبات کا ذکر ہوا ہے۔کچھ باتیں اُن کے اکتساب فن کے بارے میں ان ہی کی زبان میں بھی ہونی چاہئیں۔جہاں تک اُن کی ادبی استعدادوں اور اکتساب فن کا خدا تعالیٰ کے تصرف خاص کے تحت تشکیل پانے کا عمل ہے وہ تو قرآن کریم کی روشنی میں بیان ہو چکا ہے اب یہ دیکھتے ہیں کہ مرسلین کرام اس بارے میں خود کیا فرماتے ہیں۔سب سے پہلے بات تو اُس ہستی کی کرتے ہیں جو حضرت اقدس اور ہم سب کا آقا اور مطاع ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ أَبِي وَأُمِّي یہ بات تو معروف عام ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں شعر وسخن کا دور دورہ تھا اور ہر شخص کسی نہ کسی حد تک سخن فہمی اور شعر دانی کا ملکہ رکھتا تھا مگر اُس ماحول میں سب سے اعلیٰ ادبی فصاحت و بلاغت ہمارے آقا اور مطاع کی سمجھی جاتی تھی اور آپ کو افصح العرب“ کہا جاتا تھا آثار میں ہے کہ آپ کی ادبی شان سے متاثر ہو کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے استفسار کیا مَنْ أَدَّبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ یعنی اے اللہ کے رسول آپ کی ادبی تربیت کس نے کی ہے۔اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَدْبَنِي رَبِّي عَزَّ وَ جَلَّ “ یعنی یہ کہ مجھے میرے عز وجل خدا نے ادب کی تعلیم دی ہے۔آپ کا یہ فرمان بھی تو ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم عطا کئے ہیں۔اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کرتے ہیں اس مضمون میں آپ فرماتے ہیں چوں حاجتے بود بادیپ دگر مرا من تربیت پذیر از رب میمنم! مجھے کسی اور اُستاد کی ضرورت کیوں ہو۔میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کیے ہوئے ہوں۔اب دیکھ لیں کہ حضرت اقدس کا اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم سے کیسا اتحاد اور یگانگت ہے۔ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے حضرت ابو بکر نے آپ سے بھی یہی سوال کیا تھا اور جس کے جواب میں آپ نے وہی بات کی جو آپ کے آقا نے کی تھی۔یہاں پر ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے یہ کہ حضرت اقدس نے اس شعر میں خدا تعالیٰ کے اسماء گرامی میں ورو سے مھیمن کی صفت کو بیان کیا ہے اور مھیمن کے معنی نگران کے ہیں اور یہی بات لتصنع علی عینی 66