ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 33
33 ادب المسيح اُن کو اپنے دائرہ لطف اور اپنی نظر سے دور نہیں ہونے دیتا اور یہی اُن کی درس گاہ ادب ہوتی ہے۔جیسے فرمایا۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَنَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلَيْكَ مُقْتَدِرٍ (القمر: 56:55) اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے حضرت اقدس فرماتے ہیں۔صدق کی نشست گاہ۔با اقتدار بادشاہ کے پاس ان تصرفات باری تعالیٰ کے تحت حُسنِ ازل اور جمال محبوب حقیقی اُن کا مشاہدہ ہوتا ہے اور محبوب حقیقی کا عشق اُن کا جذ بہ آپ حضرت فرماتے ہیں۔ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دُنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اور فارسی میں فرماتے ہیں۔خاکساریم و سخن از ره غربت گوئیم يَعْلَمُ الله کہ بکس نیست غبار مارا ہم تو خاکسار ہیں اور فروتنی سے بات کرتے ہیں۔خدا شاہد ہے کہ ہمیں کسی سے عداوت نہیں مانہ بیہودہ پیئے ایس سروکارے برویم جلوۂ حسن کشد جانب یارے مارا ہم فضول اس مقصد کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے بلکہ حجتی حسن ہمیں محبوب کی طرف کھینچے لیے جارہی ہے۔اور عربی میں فرماتے ہیں۔وَلَسْتُ بِطَالِبِ الدُّنْيَا كَزَعْمِكَ وَقَدْ طَلَّقْتُهَا بِالْاعْتِزَالِ اور میں ہرگز طالب دنیا نہیں ہوں جیسا کہ تیرا خیال ہے۔میں نے تو گوشہ نشینی کے ذریعہ اسے طلاق دے دی ہے۔تَرَكْنَا هَذِهِ الدُّنْيَا لِوَجْهِ وَاثَرْنَا الْجَمَالَ عَلَى الْجَمَالِ ہم نے یہ دنیا ایک چہرے کی خاطر چھوڑ دی ہے اور ہم نے اس کے جمال کو جمال دُنیوی پر ترجیح دی ہے۔وَإِنَّكَ تَزْدَرِي نُطْقِی وَ قَوْلِي وَلَوْ صَادَفْتَهُ مِثلَ اللَّالِي تو میرے کلام اور میری بات کو حقیر سمجھتا ہے خواہ تو نے اسے موتیوں کی مانند پایا ہو