ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 35 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 35

35 ادب المسيح میں بیان ہوئی ہے۔تا کہ میری نگرانی میں تیری پرورش ہو" بات سے بات نکل رہی ہے عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس غزل میں حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنے جذبات کی نوعیت کو بھی بیان کیا ہے کہ وہ ذاتی رجحانات اور اکتساب فن سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ ایک عطائے ربانی ہے۔اور وصال باری تعالیٰ کی تجلیات ہیں۔جیسے فرماتے ہیں۔بیچ آگهی نبود از عشق و وفا مرا خود ریختی متاع محبت بدانم مجھے عشق و وفا کی کچھ بھی خبر نہ تھی۔تو نے ہی خود محبت کی یہ دولت میرے دامن میں ڈال دی۔ایس خاک تیره را تو خود اکسیر کرده بود آن جمال تو که نمود است احسنم اس سیاہ مٹی کو تو نے خودا کسیر بنادیا وہ صرف تیرا ہی جمال ہے جو مجھے اچھا لگا۔صد این صیقل دلم نه بزهد و تعبد است خود کرده بلطف و عنایات روشنم یہ میرے دل کی صفائی زہداور کثرت عبادت کی وجہ سے نہیں بلکہ تونے مجھے آپ اپنی مہربانیوں سے روشن کر دیا ہے حضرت اقدس کے اکتساب علم و ہنر اور صیقل قلب و نظر کے بارے میں ایک تفصیلی بیان اور بھی سُن لیں۔آخری دو شعر تو بہت دلفریب اور دلر با ہیں۔فرماتے ہیں۔گر نه او خواندے مرا از فضل وجود فضولی کردمے بے سود بود اگر وہ خود اپنے فضل و کرم سے مجھے نہ بلا تا۔تو خواہ میں کتنی ہی کوششیں کرتا سب بے فائدہ تھیں از نگا ہے ایس گدا را شاہ کرد قصہ ہائے راهِ ما کوتاه کرد! اُس نے ایک نظر سے اس فقیر کو بادشاہ بنا دیا اور ہمارے لمبے راستہ کو مختصر کر دیا راه خود برمن کشور آں داستاں دانمش از انسان که گل را باغباں اس محبوب نے خود اپنا راستہ میرے لیے کھولا۔میں یہ بات اس طرح جانتا ہوں جیسے باغبان پھول کو پر از نور دلستاں شد سینه ام شد ز دستے صیقل آئینه ام محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا پیکرم شد پیکر یار ازل کار من شد کار دلدار ازل میر اوجود اُس یار از لی کا وجود بن گیا اور میرا کام اُس دلدار قدیم کا کام ہو گیا بسکه جانم شد نہاں در یار من بوئے یار آمد ازیں گلزار من چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہوگئی اس لیے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی