ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 25 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 25

25 ادب المسيح ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس مضمون میں جو سورۃ الزمر کی تعریف شعر وادب بیان ہوئی ہے اس میں قرآن کریم نے یہ فرما کر تقشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمُ ( جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اُن کے رونگٹے اس کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں ) اس اختلاف کو بیان کر دیا ہے اور تخصیص کر دی ہے کہ آسمانی ادب کے فہم و ادراک اور اس سے لطف اٹھانے کے لیے محبت الہی اور تعلق باللہ ایک لازمی شرط ہے۔یہی حقیقت حضرت مسیح موعود کس قدر خوبصورتی سے بیان فرما ر ہے ہیں: فارسی میں کہتے ہیں: لوائے ما ہر سعید خواهد بود ندائے فتح نمایاں بنام ما باشد ترجمہ: ہمارا جھنڈاہر خوش قسمت انسان کی پناہ ہوگا اور کھلی کھلی فتح کا شہرہ ہمارے نام پر ہوگا اور پھر اردو زبان میں کہتے ہیں: صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں اور فرماتے ہیں: اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار یعنی اول قدم پر انسان کی فطرت سعید ہو اور دوسرے قدم پر اس کے قلب میں خوف خداوندی ہو۔اس وجہ سے آسمانی ادب کی اس اہم نوعیت کو قدرے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آسمانی اور زمینی ادب کے محرکات تخلیق اور ترجیہات ادب کیا ہیں اور ان میں اختلاف و تضاد کے موجبات کیا ہیں۔